نئی دہلی،30 اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے امرپالی گروپ کو ہدایت کی ہے کہ کرکٹر مہندر سنگھ دھونی سے-16 2009کے درمیان تمام رقم کے لین دین کی معلومات کا انکشاف کرے۔ بتا دیں کہ اس مدت میں ایم ایس دھونی امرپالی گروپ کے برانڈ امبیسڈر رہے ہیں۔ ایم ایس دھونی کا دعوی ہے کہ اسی دوران دھونی نے امرپالی میں ایک پینٹ ہاؤس بھی بک کرایا تھا۔ دھونی نے امرپالی گروپ پر برانڈ امبیسڈرکے طور پر کام کرنے کے دوران 40 کروڑ روپے بقایا ہونے کا دعوی بھی کورٹ کے سامنے کیا ہے۔کورٹ نے فورنسک آڈیٹر کی اس رپورٹ کو بھی مان لیا جس میں کروڑوں روپے کی سیفننگ کی بات کہی گئی ہے۔ دھونی نے اپنی نئی درخواست میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ امرپالی پروجیکٹ میں اس پینٹ ہاؤس کا قبضہ دلایا جائے۔ ساتھ ہی اسے دیگر گھر خریداروں کی طرح قرض دہندگان کی فہرست میں بھی شامل کیا جائے۔دھونی نے کورٹ کو حلف نامے کے ذریعہ بتایا ہے کہ اس نے رانچی میں امرپالی سفائر میں پینٹ ہاؤس بک کرایا تھا۔ تب امرپالی گروپ کے مینجمنٹ نے گمراہ کرکے خوبصورت خواب دکھائے تھے۔ اسی وجہ سے امرپالی نے ان کو اپنے پروجیکٹس کا برانڈ سفیر بھی بنایا تھا۔ دھونی نے کورٹ سے کہا ہے کہ اسے ٹھگا گیا ہے۔ اس برانڈ کو فروغ دینے کے کروڑوں روپے بھی بقایا ہیں اور گھر بھی نہیں ملا۔